ذرا تصور کیجیے، امریکہ کی کسی ریاست میں صبح کے 4 بجے ہوں، چاروں طرف خاموشی کا پہرہ ہو، ایک مکان میں 12 افراد کا کنبہ گرم بستروں اور گداز کمبلوں میں محو خواب ہو، گلابی گالوں اور بھوری آنکھوں والے پھول سے بچے اپنی ماں سے جھپیاں ڈالے گہری میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہوں، ایسے میں ایک اسلحہ بردار مسلمان اس مکان میں داخل ہو اور محو خواب تمام افراد کو گولیوں سے بھون ڈالے۔ وہ اسی پر بس نہ کرے بلکہ ساتھ والے دوگھروں میں بھی یہی وحشیانہ عمل کر گزرے۔ ذرا تصور کیجیے، اس واقعے کے بعد دنیا میں کیسا رد عمل پیدا ہوگا؟۔ امریکہ اور مغربی ممالک کے نشریاتی ادارے چشم ِ زدن میں آسمان سر پر اٹھالیںگے۔ روشن خیالی کے خبط میں مبتلا تیسری دنیا میں امریکہ کے لے پالک نشریاتی ادارے امریکہ کی لے میں لے ملاتے ہوئے اسے درندگی، دہشت گردی، انتہا پسندی، بنیاد پرستی، رجعت پسندی غرض مغرب نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے جتنے لیبل تیار کیے ہیں وہ ایک ایک کر کے مسلمانوں پر چسپاں کیے جانے لگیں گے۔ بریکنگ نیوز کے نام پر ہرگھنٹے اسی واقعے کی جگالی ہو گی۔ سورج مکھی نما دانش ور ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر اس دہشت گردی کو خوب خوب آڑے ہاتھوں لیں گے اور ایک بار پھر اسلام معرضِ بحث میں آ جائی گا۔

مگر لطف یہ ہے کہ افغانستان میں یہ مفروضہ سچ ثابت ہوا ہے۔ ایک جنونی امریکی فوجی اپنے بیس کیمپ سے نکل کر قریبی گھروں میں گھس کر خاک پر سوئے 16 افغانیوں کو جن میں 9 بچے بھی تھے خون میں نہلا دیا، اسی پر بس نہ کیا، 10 کی لاشیں جلا ڈالیں، مگر آسمان سر پر اٹھایا گیا نہ شور مچا، مغربی میڈیا کا تو خیر ذکر ہی کیا، اس کے نزدیک تو یہ واقعہ خبر کی تعریف ہی پر پورا نہیں اترتا۔ رہا ہمارا میڈیا، تو وہ ایسے مواقع پر اپنے منہ میں دھی جمانے کی روایت پر قائم ہے۔ واقعے پر امریکی صدر ابامہ تک نے اظہار افسوس کیا، اسے ایک فوجی کا انفرادی فعل قرار دے دیا اور کہا کہ اس واقعے کے نتیجے میں ہماری مجموعی حکمت عملی تبدیل نہیں ہوگی، جلد بازی میں فوجی انخلا کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔
امریکہ کی کئی ریاستوں میں پولیس اہلکاروں کو تربیت کے دوران ایسی وڈیوز دکھائی جاتی ہیں جن میں مسلمانوں کو انتہا پسند اور امریکی سول سوسائٹی کا سب سے بڑا دشمن ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تربیت کے بعد امریکی فوجیوں کا جو ذہنی سانچہ تیار ہوگا اور اس کے بعد وہ مسلمانوں کا خون بہائیں گے تو اسے کس طرح ”ایک فوجی کا انفرادی فعل“ قرار دیا جا سکتا ہے؟ افغانستان میں قلعہ جنگی، پل چرخی جیل، تورا بورا، اور دشت لیلیٰ میں ہزاروں طالبان کو کنٹینروں میں بند کر کے مار دیا گیا، ابو غُریب جیل میں قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے لگائے گئے، انہیں برہنہ کر کے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گوانتانامو بے جیل میں مسلمان قیدیوں پر ظلم و تشدد کی نئی مثالیں قائم کی گئیں۔ قرآن پاک کے 400 سو سے زائد نسخے نذر آتش کردیے گئے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پہلے گولی ماری گئی، پھر امریکہ لے جا کر ذہنی مریض بنا دیا گیا۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے 24 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کیا یہ واقعات بھی انفرادی فعل ہیں؟ ابامہ کا اس واقعے کو انفرادی فعل بتانا ”خوئے بد را بہانہ بسیار“ کے مترادف ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی ستونوں سے وابستہ کسی فرد کا کوئی فعل انفراد ی

نہیں رہتا۔ اگر 1914ءمیں آسٹریاکے ڈیوک فرنز فرڈیننڈ اور اس کی بیوی کے قتل کو بھی انفرادی فعل قرار دے دیا جاتا تو پہلی عالمی جنگ کی بنیاد نہ پڑتی۔ مگر، ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا، اور اس قتل کو ریاستی حملہ تصور کیا گیا۔
جو واقعہ افغانستان میں رونما ہوا ہے اس پر خود امریکی دانشور اور صدارتی امیدوار،رون پال چیخ اٹھا ہے۔ اس نے اپنے حالیہ آرٹیکل میں لکھا ہے ”ہمیں ان نہ ختم ہونے والی جنگوں کو ختم کرنا ہو گا، ہم دنیا کی پولیس نہیں ہیں، ہمیں دوسرے ملکوں کے سرحدی معاملات سے دور رہنا ہوگا، ہمیں اپنی قوم کی حفاظت کرنی ہے، امریکہ ایک شتر بے مہار قوت بن چکا ہے، اور ہمارے بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ عام لوگوں پر بمباری کر رہے ہیں، مگر درحقیقت وہ امریکہ کا دفاع نہیں کر رہے، وہ محض تیل کے لیے مہروں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کی ذہن سازی اس طرح کی گئی ہے، اور وہ میڈیا کی جانب داری کے حصار میں ہیں، کیا ہم اندھے، بہرے، گونگے ہو چکے ہیں، اپنی آنکھیں کھولنے اور سکوت توڑنے اور بے وقوف بھیڑیوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے“۔
افغانستان کے اس واقعے کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں گھروں میں گھس کر معصوم انسانوں کو شہید کرنے والا یہ فوجی ایک نفسیاتی بیماری Traumatic Brain Injury (TBI) کا شکار ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارےRAND

نے افغانستان اور عراق پر قابض امریکی افواج کی ذہنی و نفسیاتی بیماریوں پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ قابض 50 فیصد فوجی Post-Traumatic Stress Disorder (PTSD) اور Traumatic Brain Injury (TBI) میں مبتلا ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان میںکسی مہذب ملک کے فوجی نہیں بلکہ بے حس قاتل مشینیں سرگرم عمل ہیں جو ہر انسانی جذبے سے عاری ہیں۔افغانستان میں شہریوں کے قتل کو کھیل بنانے والے بدمعاش امریکی فوجیوں کے ایک گروپ Killing Team کا گزشتہ نومبر میں انکشاف ہوا ہے۔ امریکہ اور مغرب کا یہ وحشیانہ طرز عمل ہی ہے جو جا بجا رد عمل پیدا کر رہا ہے۔ محض انتہا پسندی کا واویلا مچا کر واقعات کے نتائج سے نہیں بچا جا سکتا۔ مغرب کو یاد رکھنا چاہیے، انتہاپسندی کسی نظریے کی پیداوار نہیں، یہ ایک ردعمل ہے جسے مغرب (بشمول امریکہ) خود فروغ دے رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان واقعات کے بعد بنیادی انسانی حقوق، رواداری، انسانی مساوات کا درس دینے والے روشن خیال کہاں ہیں؟ کیا عالمی ضمیر سو گیا ہے؟ جانوروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے انجمنیں بنانے اور کتے کی نس بندی کے خلاف آواز بلند کرنے والی این جی اوز کس گنبد میں بند ہیں؟ سوات میں ایک خاتون پر تشدد کے جعلی وڈیو پر واویلا مچانے والے کیا افیون پی کر سو گئے ہیں؟
ثنا خوانِ تقدیس ِ ”مغرب“کہاں ہیں؟
ذرا ان کو آواز دے کر جگاﺅ
یہ مقتل ،یہ منظر ،یہ کوچے دکھاﺅ



05:52
Web Desk
Posted in:
0 comments:
Post a Comment