| A screen grab from FlightAware.com shows where the plane went wayward over the Gulf of Mexico |
Fashion Current Affairs and Technology
There was a time when sports day mean Cricket, Hockey, Football and other sports activities but now sports day means Dancing Shows.
Controversial actress Veena Malik got kissed 137 times in one minute by 41 males and broke actor Salman Khan’s world record of 108 kisses on Wednesday. .
In recent days, much has been written about Malala Yousafzai - the 14-year-old Pakistani girl shot in the head by the Taliban. But in 2008, when the Taliban imposed a ban on girls' education in Pakistan's Swat Valley, no-one had heard of the schoolgirl from Mingora.
When news channels repeatedly broadcast the news of PPP leader Sharmila Faruqi having found her “jeewan saathi” last week, I immediately rang her up to get an up close and personal account of how it all happened.
Maheen Karim entered the fashion world in 2006, but had decided she would become a fashion designer much earlier on. “Since I was 13, I wanted to design. From a relatively young age, I wanted to enter this field. So I opted for Saint Martins College of Art and Design and pursued a degree in Fashion Design and Marketing,” she said, in an interview that took place at her Clifton residence.
| A screen grab from FlightAware.com shows where the plane went wayward over the Gulf of Mexico |
Posted in: World
Posted in: LIfeStyle
تحریر: مولانا محمد جہان یعقوب
یہ صدی اسلام کی صدی ہے۔غیرمسلم مردوخواتین کی ایک بڑی تعداداسلام کے دائرہ رحمت میں داخل ہورہی ہے۔یہ صورت حال صرف پاکستان کی نہیں،بلکہ دنیابھرکی ہے۔یہ صدی اسلام کی صدی ہے۔9/11 کے بعد خاص طور پر قبول اسلام کی رجحان میں ریکارڈ اضافہ نوٹ کیا گیا ہے،الجزیرہ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ نو برس میں تیس ہزار برطانوی شہریوں نے اسلام قبول کرکیا اور صرف گذشتہ برس 5 ہزار افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس کے علاوہ جرمنی فرانس میں سالانہ چار ہزار افراد اسلام قبول کرتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ اسلام کی تعلیمات ہیں،جوہرمنصف مزاج شخص کے دل ودماغ کواپنی جانب مائل کرتی ہیں۔اس موضوع پربازارمیں درجنوں کتابیں موجودہیں۔آپ جس نومسلم کی داستان پڑھیے،خواہ وہ مردہویاعورت،آپ کے سامنے ایک ہی بات آئے گی کہ انہوں نے اسلام کامطالعہ کیا،اس کی آفاقی وانفسی تعلیمات پرغورکیا،اس میں اپنے مسائل کاحل تلاش کیا،جب سب کچھ اس دین فطرت میں پایاتواسے اختیارکرلیا۔ غیرمسلم خواتین،خواہ کسی بھی دین،دھرم،مذہب اورسوسائٹی کی ہوں،مردوں کے مقابلے میں زیادہ مسائل کاشکارہیں۔جب وہ دیکھتی ہیں کہ ان کاآبائی دین ان کی عزت وناموس تک کی حفاظت نہیں کرسکتا،بلکہ اسے حقوق کا”لالی پاپ“دے کرمردوں کے شہوانی وشیطانی جذبات کی تسکین کاذریعہ بنانے کے درپے ہے،توسلیم الفطرت خواتین اس دین کی غلامی کاطوق اپنے گلے میں بصدخوشی ورضاڈالنے کافیصلہ کرتی ہیں،جوان کے حقوق کاسب سے بڑاضامن ،سب سے زیادہ علم بردار اورداعی ہے۔یہ آج سے نہیں،شروع سے ہورہاہے۔اس پرانہیں جس قسم کے حالات کاسامناکرناپڑتاہے،وہ خندہ پیشانی سے قبول کرلیتے ہیں۔مسلمان معاشرہ انہیں اپنے اندریوں سمولیتاہے کہ شریعت انہیں کفرکاطعنہ تک دینے کی اجازت نہیں دیتی۔دوسری طرف ان کااپنامعاشرہ بھی انہیں بھلادیتاہے۔ یہ میڈیاوارکادورہے۔پروپیگنڈے کی قوت سے سچ کوجھوٹ اورجھوٹ کوسچ ثابت کرنامعیوب نہیں بلکہ فیشن سمجھاجاتاہے۔کہیں تعلقات کام آجاتے ہیںتوکہیں سیاسی وابستگیاں ،کہیں پیسے کی چمک کام دکھاجاتی ہے توکہیں نادیدہ قوتوں کادباو۔ ازل سے یہی چیزیں اہل باطل کاہتھیاررہی ہیں۔ ہندوخواتین کاقبول اسلام کوئی اچھنبے کی بات ہے،نہ ان کاقبول اسلام کے بعدمسلمانوں سے شادی کرنا،تاہم ”کھسیانی بلی کھمبانوچے“کے مصداق کچھ بااثرہندواس حوالے سے سرگرم ہوگئے ہیں۔یہ لابی ایک تونومسلم ہندوخواتین کومختلف حربوں سے پریشان کررہی ہے اوردوسرے اس سلسلے کوروکنے کے بھی درپے ہے۔ان کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں۔ایک طرف انہیں بھارتی ہائی کمشنرکی آشیربادحاصل ہے تودوسری طرف حکمرانوں اور قوم پرست سندھی رہنماوں کی سپورٹ بھی ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کااباحت پسندمیڈیاہی نہیں،بھارت کے نشریاتی ادارے اوربی بی سی بھی منفی اورخالص مبنی برکذب پروپیگنڈے کے ذریعے اس لابی کے مذموم عزائم کی راہیں ہموارکررہے ہیں۔ حال ہی میں میرپورماتھیلوسے تعلق رکھنے والی ایک نومسلمہ فریال کی پسندکی شادی کواغوااورجبری شادی کانام دے کرجوطوفان بدتمیزی برپاکیاگیا....الامان والحفیظ۔پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی جانب سے عدالت میں نکاح نامہ پیش کیے جانے کے باوجوداسے اسلام اورہندودھرم کی لڑائی کارنگ دینا،سندھی نوجوان نویدشاہ کوپنجابی قراردے کراسے سندھ پنجاب کی لڑائی کارنگ دینا،لڑکی کے بیان حلفی کے باوجودیہ کہناکہ اسے اغواکرکے جبری مسلمان بنایاگیاہے،غرض ایسے ایسے پروپیگنڈے کہ شرافت،صداقت ودیانت بھی سرپیٹ کررہ جائے!! کاش جذباتی قوم پرست نوجوانوں کومعلوم ہوتادھرتی ماتاکے تحفظ کے نام پر”جے ماتا“کے نعرے لگاناان کے نامہ اعمال کی سیاہی میں ہی مزیداضافہ نہیں کررہا،بلکہ ہندوانہیں مسلمان ہونے کے باوصف اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ورنہ مسلمان کوکسی طرح بھی یہ زیب نہیں دیتاکہ وہ کفرواسلام کے مسئلے میں عصبیت کامظاہرہ لرتے ہوئے کفارکاساتھ دے۔یہی عصبیت تھی،جس نے ابوالحکم کوابوجہل بنادیاتھا،ماضی قریب میں افغانستان میں مسلمانوں کواسلامی حکومت کے مقابل لانے والی چیزبھی یہی عصبیت تھی۔کاش!میرے سندھی بھائی اوران کے لیڈراس رازکوسمجھ لیں۔ہم یہاں ان سندھی رہنماوں کے سامنے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق بھرچونڈوی المعروف سائیں میاں مٹھوکی روشن مثال رکھناضروری سمجھتے ہیں،جن کاکہناہے:دین سیاست اورہرچیزسے مقدم ہے۔پی پی پی کارکن اسمبلی ضرورہوں،مگرایمانی تقاضوں پرسمجھوتہ نہیں کرسکتا۔اللہ کرے حکمراں جماعت کے دوسرے سندھی سیاستدانوں،قوم پرستوں اورکارپردازان عدل وانصاف کوبھی اس غیرت ایمانی کاایک شمہ نصیب ہوجائے!!اے بساآرزوکہ خاک شدہ!! زمینی حقائق یہ ہیں کہ فریال ایک عاقل بالغ لڑکی ہے،جس کی میٹرک سرٹیفکیٹ میں تاریخ پیدائش 16جنوری 1992ءدرج ہے۔وہ عدلیہ اورمیڈیاکے سامنے درجنوں بارکہہ چکی ہے کہ اس نے مکمل رضاورغبت سے میاں عبدالحق بھرچونڈوی المعروف سائیں میاں مٹھوکے نائب میاں عبدالحئی عرف شمن سائیں کے ہاتھ پراسلام قبول کیااوراپنی پسندسے نویدشاہ نامی لڑکے سے شادی کی ہے۔ اس عمل سے اسے کوئی قانون نہیں روک سکتا،کیوںکہ وہ عاقل بالغ ہے اوراسے اپنے فیصلے کرنے کامکمل اختیارحاصل ہے۔ہائی کورٹ بارکے صدرجناب محمودالحسن نے بھی یہی باتیں کی ہیں،مگرجانے کیوں....دباو ہر اصول پرغالب آجاتاہے! آئین وقانون کے ”تقاضوں “کوایک مرتبہ پھرپوراکرتے ہوئے ہائی کورٹ نے نومسلم فریال کوپولیس کی تحویل میں دارالامان روانہ کرکے 26مارچ کوسپریم کورٹ میں پیش ہونے کاحکم دے دیاہے۔وہ چیختی چلاتی رہی،دہائی دیتی رہی کہ مجھے دارالامان نہیں جانا ،بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ جانا ہے، وہ اپنا جرم پوچھتی رہی کہ کیاجس ملک کواسلام کے نام پرحاصل کیاگیااس میں اسلام قبول کرنا اورایک عاقل بالغ مسلمان عورت کاپاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے پسندکی شادی کرناجرم ہے؟کس قدربے حسی کاسماں تھا،جب ایک آزادعاقل بالغ مسلمان عورت کوقانون کے محافظوں کے حکم پر قانون نافذکرنے والے اداوں کے اہل کاردارالامان لے جارہے تھے۔ ،جس ماموں کے کہنے پراسے دارالامان بھیجاگیاہے،اس کے حوالے سے اس نے شروع دن سے اپنے تحفظات کااظہارکیاہے اوریہاں تک کہاہے کہ اگرمجھے اورمیرے شوہرکوکچھ ہواتواس کی ذمہ داری میرے اس ماموں پرعایدہوگی۔ہائی کورٹ نے فریال کوجہاں بھیجاہے،ہرباخبرشخص جانتاہے کہ وہاں نہ جان کوامان حاصل ہونے کی گارنٹی دی جاسکتی ہے اورنہ ہی عصمت وایمان کی۔جس وقت یہ سطریں سپردقرطاس کی جارہی ہیں ،یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں کہ فریال نے دارالامان بھیجے جانے کے فیصلے سے دل برداشتہ ہوکرخودکشی کی کوشش کی ہے۔اللہ میری اس نومسلم بہن کی جان ،ایمان اورآبروکی غیبی ہاتھوں سے حفاظت فرمائے۔ یہ کیسے فیصلے ہیں جوقانون وآئین کی پاسداری کے نام پرمسلط کیے جارہے ہیں؟احاطہ عدالت میں”جیے رام“کے نعرے لگاکردوقومی نظریے کی دھجیاں بکھیرنے والوں کے خلاف یہ قانون جانے کب حرکت میں آئے گا؟ کیا قانون میں کوئی ایسی شق بھی ہے جودباو اورسیاسی وابستگی کی بنیادپرفیصلے دینے والے ججوں پرکوئی قدغن لگاتی ہو؟اگرہاں!تووہ کب حرکت میں آئے گی؟کیااقلیتوں کواکثریت پرحاوی کرنے کی کوششیں صرف اس لیے درست ہیں کہ ان کواہل ااختیار واقتدار کی حمایت حاصل ہے؟کیاارباب عدل ان امورپرغورکرناپسندفرمائیں گے؟ جانے کب تک ”اوپروالوں کے دباو“کے تیشے آئین وقانون کایوں خون کرتے رہیں گے۔ گزشتہ دنوں مقامی ہوٹل میں علمائے کرام نے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں اپنے تحفظات کااظہارکرتے ہوئے اہل اقتدارکواس جانب متوجہ کیاہے کہ محترمہ فریال شاہ کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر مذہبی طبقے میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔تما م علما کا مطالبہ ہے کہ تمام نومسلوں کو تحفظ دیا جائے ،جج صاحبان اور تمام لیڈاران اور مقتدر طبقے سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ نومسلمہ فریال شاہ اور نومسلمہ ڈاکٹر حفصہ کو ان کا قانونی حق دیں ،انہیں جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے ۔ورنہ ہم تمام مکاتب فکر کے علما سے ملکر ملک گیر تحریک چلائیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ نومسلوں کوتحفظ نہیں دیتی اور ہماری ان نومسلم بہنوں ڈاکٹر حفصہ اور فریال شاہ کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اور ان پر ہونے والے ظلم کا سد باب نہیں ہوتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کومزیدبگڑنے سے بچانے کے لیے ہرطبقہ اس حوالے سے شرعی وآئینی تقاضوں کی درست طریقے سے پاسداری کے لیے اپناکرداراداکرے،تاکہ ہرقسم کے فسادکاسدباب ہوسکے۔لاوے کوپھٹنے سے پہلے سردکرناہی عقل مندی کاتقاضاہے۔ |



کراچی میں ایک بار پھر امن و امان کی صورت حال بگڑتی جارہی ہے۔ ملک کا اقتصادی دارالحکومت بدامنی کی زد میں ہے، مگر ہمارے ارباب اختیار روایتی دعووں سے آگے کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ لانڈھی میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں وہ محفوظ رہے، تاہم ایک کارکن اور 2 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔ جب کہ ملیر بار کے سابق صدر صلاح الدین جعفری قاتلانہ حملے میںبیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے، جس کے خلاف ملیر بار نے غیر معینہ جبکہ سندھ بار کونسل نے کل 26مارچ کو عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
کراچی کے علاقے لیاری میں وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کے احکام پر گزشتہ پانچ روز سے آپریشن جاری ہے۔ لیاری کے مختلف علاقے میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، اس آپریشن کے خلاف کالعدم پیپلزامن کمیٹی اور علاقہ مکین سراپا احتجاج ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپیں معمول بن گئی ہیں۔ گزشتہ روز پولیس اہلکاروں پر پیٹرول بم سے حملے کیے گئے، نامعلوم افراد نے تین بکتر بندگاڑیوں کو آگ لگادی جب کہ پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 50 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ لیاری میں جاری آپریشن کے باعث حالات کشیدہ ہوچکے ہیں، دکانیں اور بازار بند ہونے کے ساتھ ساتھ اشیائے خورونوش کی فراہمی بھی بند ہے، جس کی وجہ سے اشیائے خور و نوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے جب کہ ہزاروں افراد اپنے گھروںمیں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ ![]() واضح رہے کہ یہ آپریشن کراچی میں بڑھتی ہوئی بھتا خوری کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے زبردست احتجاج اور اس کے مطالبے پر کیا جارہا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی جمعرات کے روز اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کراچی میں ہر قیمت پر بھتا خوری کے خاتمے اور جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔ شہر کراچی میں قتل و غارت اور بھتا گیری عروج پر ہے، جس کا معاشی نقصان پورے ملک کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2011ءمیں امن و امان کی صورت حال مجموعی طور پر ملک بھر میںبہت خراب رہی۔ خاص طور پر کراچی کے حالات نہایت دگرگوں رہے۔ پچھلے سال تشدد کے واقعات میں کراچی کے ایک ہزار 715 شہری قتل کیے گئے، جب کہ 379 افراد فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں کہا جاسکتاہے کہ پورا کراچی بدامنی سے متاثر ہے، پھر ایک مخصوص علاقے میں ہی یک طرفہ آپریشن کیوں کیا جارہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اتحادیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہورہی ہے اور اپنی حکومت بچانے کے لیے وہ اپنے اثر و رسوخ والے علاقے پر بھی چڑھائی کرنے سے دریغ نہیں کررہی ۔ یہ افسوس ناک صورت حال ہے پیپلزپارٹی کا یہ رویہ خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے جیالے مایوس ہیں اور ان میں بددلی پھیل رہی ہے۔ صدر مملکت بلاامتیاز کارروائی کی ہدایات جاری کررہے ہیں دوسری جانب عملی اقدامات ان کے اس دعوے کی نفی کرتے نظر آرہے ہیں۔ چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے کراچی میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے خاتمے کے لیے خصوصی احکام جاری کیے گئے، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی حد تک عمل بھی کیا جس پر کراچی کے شہری مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ اس وقت حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھتا خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی فہرستیں بھی پیش کی گئیں لیکن قوم کو اب تک ان ناموں سے آگاہ نہیں کیا گیا اور جرائم میں ملوث افراد کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی اس حوالے سے بھی قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا۔سندھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں کراچی میں بدامنی کے واقعات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیتی ہیں۔ ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ یہ سنگین نوعیت کے الزامات حقیقی ہیں یا نورا کشتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب بھی کراچی میں درجن بھر لاشیں گرتی ہیں، وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کراچی دوڑے چلے آتے ہیں، اتحادی جماعتوں میں صلح و صفائی کا تاثر دیتے ہیں اور چند احکام جاری کرتے ہیں تو وقتی طور پر امن بحال ہوجاتا ہے۔ ملک صاحب ہر بار نیا شوشا چھوڑ کر کراچی کے باسیوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، کبھی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ”اب اگر ٹارگٹ کلنگ کا ایک بھی واقعہ ہوا تو ان سے برا کوئی نہ ہوگا“ لیکن صورت حال آج بھی جوں کی توں ہے۔ ملک صاحب کے اس قسم کے مضحکہ خیز دعووں اور پینترا بدلنے کے باعث ان کی ساکھ تباہ ہوکر رہ گئی ہے مگر شاید اس سے بھی انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ بلند بانگ دعووں اور بیانات جاری کرنے سے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے حکومتی ذمہ داران اور عہدیداروں کو کراچی میں بڑھتے فسادات کا قلع قمع کرنے کے لیے اب سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ آئندہ انتخابات میں انہیں عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ uhasanzai@yahoo.com |
Posted in: Published in KarachiUpdates.com
Posted in: CNET NEWS

Posted in: Online Advertising

